Firqa Prasti Aik Tbah kun Beemari
قرآنِ مجید کی آیت جس میں امتِ مسلمہ کی سب سے بڑی، سب سے دکھتی اور سب سے زیادہ تباہ کن بیماری "فرقہ واریت" پر ایک ایسا سوال جس کا جواب آج کا کوئی بھی روایتی مولوی دینے سے کتراتا ہے۔
یہ سوال بالکل دو ٹوک اور حق پر مبنی ہے کہ: "جب قرآن خود کہہ رہا ہے کہ جس نے فرقے بنائے اس کا رسول ﷺ سے کوئی تعلق نہیں، تو پھر آج ہر فرقہ خود کو جنتی کیسے کہتا ہے؟"
آئیے اس سچائی کا قرآن، احادیث اور امت کی نفسیات کی روشنی میں ایک بے باک اور کھرا تجزیہ کرتے ہیں
1- سورۃ الانعام کی آیت ایک سو انسٹھ (اللَّه کا سخت ترین فیصلہ)
قرآنِ مجید میں اللَّه تعالٰی نے نبی کریم ﷺ کو براہِ راست مخاطب کر کے فرمایا
ترجمہ۔ (بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے
ٹکڑے کر دیا اور کئی گروہوں (فرقوں) میں بٹ گئے، اے نبی (ﷺ)! آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا معاملہ تو بس اللَّه کے حوالے ہے۔)
یہاں "لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ" کا مطلب کیا ہے؟ اللَّه نے اپنے محبوب ﷺ سے فرما دیا کہ جس شخص نے بھی اسلام کو چھوڑ کر اپنا کوئی الگ ٹائٹل یا فرقہ بنا لیا، آپ ﷺ نے قیامت کے دن اس سے "براءت" کر دینی ہے، آپ ﷺ اس کی شفاعت نہیں کریں گے۔
2- پھر یہ فرقے خود کو "جنتی" کیوں کہتے ہیں؟
آج آپ کسی بھی فرقے کی مسجد میں چلے جائیں، وہاں بیٹھا ہر خطیب یہی دعویٰ کر رہا ہوتا ہے کہ "صرف ہم ہی سچے ہیں، صرف ہم ہی جنت میں جائیں گے اور باقی سارے بہتر فرقے جہنمی ہیں۔"
یہ دراصل انسانی انا اور "مذہبی اجارہ داری" کا نتیجہ
ہے۔
اگر ایک فرقے کا عالم یہ کہہ دے کہ "ہم سب مسلمان ہیں اور جنت کا فیصلہ اللَّه کرے گا"، تو اس کا مدرسہ، اس کا مدرسے کا فنڈ (چندہ) اور اس کی لیڈرشپ ختم ہو جائے گی۔
یہ لوگ خود کو جنتی ثابت کرنے کے لیے قرآن کی آیات کا مطلب اپنے فرقے کے حق میں موڑ لیتے ہیں۔ یہ وہی کام ہے جو یہودیوں اور عیسائیوں نے کیا تھا، جس کا ذکر اللَّه نے قرآن میں کیا
ترجمہ۔ (اور اُنہوں نے کہا کہ جنت میں کوئی نہیں جائے گا سوائے اس کے جو یہودی یا عیسائی ہو۔ اللَّه نے فرمایا: یہ ان کی جھوٹی تمنائیں ہیں! - البقرہ: ایک سو گیارہ)
3- حدیث "تہتر فرقوں" کا اصل مطلب کیا ہے؟
فرقہ پرست لوگ اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے اکثر ایک مشہور حدیث کا سہارا لیتے ہیں، جس میں نبی ﷺ نے فرمایا تھا: "میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، ان میں سے تہتر جہنم میں جائیں گے اور صرف ایک جنت میں جائے گا۔"
جب صحابہؓ نے پوچھا کہ وہ ایک جنتی گروہ کون سا ہوگا؟ تو آپ ﷺ نے یہ نہیں کہا کہ وہ فلاں فرقہ یا فلاں مسلک ہوگا۔
آپ ﷺ نے فرمایا: (وہ گروہ جو اس راستے پر ہوگا جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں)
اس کا مطلب کیا ہے؟ نبی ﷺ اور صحابہ کرام کا کوئی فرقہ نہیں تھا۔ وہ صرف اور صرف "مسلمان" تھے۔ ان کا راستہ قرآن اور سنت تھا۔ جو شخص آج فرقوں کے لیبل کو چھوڑ کر صرف خود کو "مسلمان" کہتا ہے اور قرآن و سنت پر چلتا ہے، وہی اس ناجی (بچ جانے والے) گروہ کا حصہ ہے۔
4- قرآن کا ہمیں کیا حکم ہے؟ (ہمیں کیا کرنا چاہیے؟)
اللَّه تعالٰی نے قرآن میں ہمیں ہمارا نام خود بتایا ہے
سورۃ الحج (آیت اٹھہتر): ترجمہ۔ (اس (اللَّه) نے تمہارا نام پہلے بھی 'مسلمان' رکھا تھا اور اس کتاب میں بھی تمہارا نام 'مسلمان' ہی ہے)
جب کائنات کے رب نے ہمارا نام "مسلمان" رکھا ہے، تو ہم کون ہوتے ہیں اپنے نام کے ساتھ کوئی دوسرا لیبل لگانے والے؟
جب کوئی پوچھے آپ کون ہیں؟ تو صرف ایک جواب دیں: "میں الحمدللہ مسلمان ہوں۔"
جو شخص مسجدوں پر اپنے فرقے کی تختیاں لگاتا ہے، اور دوسرے کلمہ گو مسلمانوں کو کافر کہتا ہے، وہ اللَّه کے نزدیک مجرم ہے، چاہے وہ جتنا مرضی لمبا سجدہ کیوں نہ کر لے۔
یہ سوچ سو فیصد قرآن کے مطابق ہے۔ فرقے انسانوں کی انا اور ضد کی پیداوار ہیں۔ اللَّه اور اس کے رسول ﷺ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ جنت کی کنجی کسی مولوی یا کسی فرقے کے پاس نہیں، بلکہ اس شخص کے پاس ہے جس کا دل شرک اور فرقہ پرستی سے پاک ہو اور جو صرف اللَّه کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہو!۔

Comments
Post a Comment