مہنگائی کے اسباب اور ان کا حل: شریعت کی روشنی میں ایک جامع تجزیہReasons of inflation and solution.a vast analysis
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
مہنگائی کے اسباب اور ان کا حل: شریعت کی روشنی میں ایک جامع تجزیہ
تحریر: تحقیقی انداز میں
مراجع: قرآن، حدیث، فقہ اور اکابر کی تعلیمات
تعارف
آج ہر مجلس، ہر بازار اور ہر گھر میں ایک ہی شکایت سنائی دیتی ہے: "مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے"۔ اجناس کی قیمتیں، کرایے، بجلی گیس کے بل اور روزمرہ کی ضروریات سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
جب ہم کسی ماہر معیشت کی رائے سنتے ہیں تو وہ ڈالر، امپورٹ، سبسڈی اور پالیسیوں کا ذکر کرتا ہے۔ یہ سب اسباب ظاہری اور طبعی ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی اس "اصل مرض" کو سمجھنے کی کوش کی ہے جس کی طرف چودہ سو سال پہلے ہمارے نبی کریم ﷺ نے اشارہ فرمایا تھا؟
شریعت ہمیں بتاتی ہے کہ رزق کی تنگی، قحط اور مہنگائی کا تعلق صرف منڈی سے نہیں، بلکہ ہمارے اعمال، ایمان اور اجتماعی رویوں سے بھی ہے۔ جب تک ہم اصل سبب کا علاج نہیں کریں گے، وقتی تدبیریں وقتی سکون ہی دیں گی۔
شریعت کی روشنی میں مہنگائی کے 5 بنیادی اسباب
سنن ابن ماجہ کی مشہور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین کو مخاطب کر کے 5 فتنوں کا ذکر فرمایا۔ ان میں سے 2 کا براہ راست تعلق معیشت سے ہے:
حدیث
" لَمْ یَنْقُصُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَانَ، إِلَّا اُخِذُوا بِالسِّنِینَ، وَشِدَّۃِ الْمَئُوْنَۃِ، وَجَوْرِ السُّلْطَانِ عَلَیْہِمْ"
ترجمہ: "جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگتے ہیں تو وہ قحط، معاشی تنگی اور ظالم حکمرانوں کے مسلط ہونے کا شکار ہو جاتے ہیں"۔
اس حدیث اور دیگر نصوص سے درج ذیل 5 اسباب واضح ہوتے ہیں:
* ناپ تول میں کمی اور دھوکہ دہ
تاجر کا مال میں عیب چھپانا، وزن کم کرنا، ملاوٹ کرنا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "مَنْ غَشَّ، فَلَیْسَ مِنِّیْ" یعنی جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔ جب برکت اٹھ جائے تو مال زیادہ ہونے کے باوجود بھی گزارہ نہیں ہوتا۔
* زکوٰۃ کی عدم ادائیگی
"وَلَمْ یَمْنَعُوا زَکَاۃَ اَمْوَالِہِمْ إِلَّا مُنِعُوا الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ"۔ جب مالدار زکوٰۃ نہیں دیتے تو اللہ آسمان کی رحمت یعنی بارش روک دیتا ہے۔ بارش رکے گی تو پیداوار کم ہوگی اور مہنگائی بڑھے گی۔ ایک اور روایت میں ہے: "نہیں روکا کسی قوم نے زکوٰۃ کو، مگر روک لیا اللہ تعالیٰ نے ان سے بارش کو"۔
* فحاشی، زنا اور عام معاصی کا پھیلاؤ
حدیث کے آغاز میں ہی فرمایا: "لَمْ تَظْہَرِ الْفَاحِشَۃُ فِیْ قَوْمٍ قَطُّ... إِلَّا فَشَا فِیْہِمُ الطَّاعُوْنُ"۔ گناہ کی کثرت سے اجتماعی برکت اٹھ جاتی ہے۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ یُصِیْبُہُ" یعنی آدمی گناہ کی وجہ سے رزق سے محروم ہو جاتا ہے۔
* عہد شکنی اور ظلم
"وَلَمْ یَنْقُضُوا عَہْدَ اللہِ... إِلَّا سَلَّطَ اللہُ عَلَیْہِمْ عَدُوًّا"۔ جب قومیں وعدے توڑتی ہیں تو بیرونی قوتیں ان کے وسائل چھین لیتی ہیں۔ اس سے مہنگائی اور معاشی دباؤ پیدا ہوتا ہے۔
کتاب و سنت کے خلاف فیصلے
"وَمَا لَمْ تَحْکُمْ اَئِمَّتُہُمْ بِکِتَابِ اللہِ... إِلَّا جَعَلَ اللہُ بَاْسَہُمْ بَیْنَہُمْ"۔ جب انصاف نہیں ہوگا تو بازار میں اجارہ داری، ذخیرہ اندوزی اور کرپشن بڑھے گی جس کا نتیجہ مہنگائی ہے۔
b اسلاف اور اکابر کا فہم
*حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ* فرماتے ہیں: موجودہ مشکلات کا علاج اسباب کا ازالہ ہے۔ یعنی ایمان کی درستی، توبہ، حقوق العباد کی ادائیگی اور زکوٰۃ کا اہتمام۔ وہ لکھتے ہیں کہ لوگ اسباب طبیعیہ کو اصل سمجھ کر بھٹک جاتے ہیں، حالانکہ اصل سبب اللہ کی ناراضی ہے۔
حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ کا ملفوظ:
ایک بار لوگ مہنگائی کی شکایت لے کر آئے اور مظاہرے کا مشورہ مانگا۔ آپ نے فرمایا: "انسان اور چیزیں ترازو کے دو پلڑے ہیں۔ جب انسان کی قیمت اللہ کے ہاں ایمان اور عمل سے بڑھتی ہے تو چیزوں کا پلڑا ہلکا ہو جاتا ہے۔ اور جب انسان گناہوں سے گرتا ہے تو چیزوں کا پلڑا بھاری ہو کر مہنگائی لاتا ہے"۔
پھر فرمایا: "اللہ کی قسم! اگر تمہارا رزق سمندر کی تہ میں بند پتھر میں بھی ہوگا تو وہ پھٹ کر تم تک پہنچے گا۔ مہنگائی اسے روک نہیں سکتی"۔
*حضرت ابو حازم رحمہ اللہ* سے لوگوں نے مہنگائی کا شکوہ کیا تو فرمایا: "تمہیں کس بات کا غم ہے؟ جس ذات نے ہمیں کشادگی میں رزق دیا وہی تنگی میں بھی دے گی"۔
مہنگائی کا شرعی اور عملی حل
. روحانی اور انفرادی حل
1. توبہ و استغفار
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کے ذریعے فرمایا: "فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ... یُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا وَیُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ"۔ یعنی استغفار سے بارش، مال اور اولاد میں برکت آتی ہے۔
2. فرائض کی پابندی اور دعا
فجر کے بعد 100 بار "سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم استغفراللہ"، روزانہ مغرب کے بعد سورہ واقعہ، چاشت کی نماز۔ یہ سب رزق میں برکت کے مجرب اعمال ہیں۔
اللہ پر توکل
نبی ﷺ سے جب مہنگائی کی شکایت کی گئی اور نرخ مقرر کرنے کا مطالبہ ہوا تو فرمایا: "نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، وہی تنگی اور فراخی دینے والا ہے"۔
. معاشی اور تجارتی حل
اسلام نے 1400 سال پہلے وہ اصول دیے جو آج کی معیشت کا بہترین حل ہیں:
دھوکہ دہی اور ملاوٹ سے بچنا
نبی ﷺ نے گیلے اناج کے ڈھیر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ دیکھ لیں۔ شفافیت سے برکت آتی ہے۔
نجش یعنی مصنوعی قیمت بڑاجتناب
" نَہَی عَنِ النَّجْشِ"۔ خریداری کا ارادہ نہ ہو تب بھی قیمت بڑھانا حرام ہے
قافلے کو راستے میں نہ روکنا
" لَا تَلَقَّوُا الرُّکْبَانَ لِلْبَیْعِ"۔ تاکہ مال سیدھا منڈی جائے اور مقابلے سے قیمت مناسب رہے۔
سچائی اور عیب کا اظہار
"فَإِنْ صَدَقَا وَبَیَّنَا بُورِکَ فِیْ بَیْعِہِمَا"۔ سچ بولنے اور عیب بتانے سے خرید و فروخت میں برکت ہوتی ہے ۔
سماجی اور گھریلو سطح کے حل
قناعت اور متبادل کا استعمال
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں جب کشمش مہنگی ہوئی تو آپ نے لکھا: "کھجور استعمال کرو"۔ یعنی مہنگی چیز کا سستا بدل اختیار کرو۔
ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ کا اصول
جب گوشت مہنگا ہوا تو فرمایا: "اسے خریدنا چھوڑ دو"۔ مانگ کم ہوگی تو قیمت خود گر جائے گی۔
غیر ضروری اخراجات کم کرنا
خریداری سے پہلے فہرست بنائیں۔ فالتو موبائل، فضول دعوتوں اور نمود و نمائش سے بچیں۔ سادہ غذا اختیار کریں۔
عملی نکات برائے آج کا دور ر
. روزانہ صدقہ دیں، چاہے 10 روپے ہی ہوں۔
ہر کاروبار میں حلال و حرام کا فرق ملحوظ رکھیں۔
ملازمین اور مزدوروں کی اجرت وقت پر دیں4.۔
گھر میں برکت کی نیت سے سورہ بقرہ کی تلاوت۔.۔
.
توانائی اور پانی کا ضیاع روکیں ۔
مقامی پیداوار کو ترجیح دیں ۔
قرض سے بچیں اور اگر ہے تو جلد ادا کریں ۔
حکومت سے مطالبہ کے ساتھ اپنی اصلاح بھی کریں۔
1
---
اکثر پوچھے جانے والے سوالات - FAQ
*سوال 1: کیا مہنگائی صرف حکومت کی وجہ سے ہے؟*
جواب: ظاہری اسباب حکومت کی پالیسیاں ہیں، لیکن شریعت ہمیں بتاتی ہے کہ اصل سبب اعمال ہیں۔ جب قوم گناہ کرتی ہے تو اللہ کبھی قحط، کبھی حکمران اور کبھی مہنگائی کے ذریعے تنبیہ کرتا ہے۔ دونوں پہلوؤں پر کام کرنا ضروری ہے۔
* سوال 2: کیا مہنگائی کے دور میں کاروبار کرنا جائز ہے؟*
جواب: بالکل جائز ہے بشرطیکہ اصولوں کی پابندی ہو۔ دھوکہ، ذخیرہ اندوزی اور جھوٹ نہ ہو۔ نبی ﷺ خود تاجر تھے۔ حلال تجارت سب سے بہترین رزق ہے۔
* سوال 3: غریب آدمی کیا کرے جس کی آمدنی بہت کم ہے؟*
جواب: 1. استغفار اور دعا کو معمول بنائے۔ 2. جتنا ممکن ہو اللہ کی راہ میں خرچ کرے کیونکہ "خرچ کرو، تم پر خرچ کیا جائے گا"۔ 3. سادگی اختیار کرے۔ 4. ہنر سیکھ کر آمدنی کا ذریعہ بڑھائے۔ یاد رکھیں رزق اللہ کے ذمے ہے۔
* سوال 4: کیا نرخ مقرر کروانا جائز ہے؟*
جواب: اگر تاجر ظلم کر کے مصنوعی مہنگائی پیدا کر رہے ہوں تو اسلامی ریاست احتکار روکنے کے لیے مداخلت کر سکتی ہے۔ لیکن نبی ﷺ نے عام حالات میں نرخ مقرر کرنے سے منع فرمایا کیونکہ "اللہ ہی روزی تنگ اور کشادہ کرنے والا ہے"۔
* سوال 5: برکت کیسے آئے گی؟*
جواب: برکت 4 چیزوں سے آتی ہے: 1. حلال کمائی 2. زکوٰۃ کی ادائیگی 3. سچائی 4. شکر۔ حدیث میں ہے کہ جھوٹ اور عیب چھپانے سے برکت مٹ جاتی ہے۔
مہنگائی ایک آزمائش ہے۔ یہ ہمیں اللہ کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتی ہے۔ اگر ہم اجتماعی طور پر توبہ کریں، زکوٰۃ دیں، تجارت میں سچائی لائیں اور قناعت اپنائیں تو اللہ ضرور اپنی رحمت کے دروازے کھولے گا۔
یاد رکھیں: پلڑا ہمارے ہاتھ میں ہے۔ جیسے ہی ہم اپنے ایمان والے پلڑے کو بھاری کریں گے، چیزوں کا پلڑا خود بخود ہلکا ہو جائے گا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو فہم اور عمل کی توفیق دے۔ آمین۔
*مراجع:*
1. سنن ابن ماجہ، حدیث: 4019
2. صحیح مسلم، حدیث: 284
3. المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث: 10992
4. سنن ابن ماجہ، حدیث: 4022
5. سال بھر کے مسنون اعمال، مہنگائی اور قحط کے اسباب، ص: 40-41
6. حلیۃ الاولیاء، ج: 3، ص: 239
7. سورۃ نوح: 10-12
8. سنن ابی داود، حدیث: 3451
9. سنن ابن ماجہ، حدیث: 2173
10. سنن الترمذی، حدیث: 1267
11. سنن النسائی، حدیث: 4501
12. سنن النسائی، حدیث: 4462
13. تاریخ ابن معین، ج: 3، ص: 113
14 حلیۃ الاولیاء، ج: 8، ص:32؟

Comments
Post a Comment